حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ فلسطین کے وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے ہندوستان کے 140 کروڑ عوام کو اپنا حامی قرار دیے جانے کے حالیہ بیان پر آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے سربراہ مولانا یعسوب عباس نے سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
مولانا یعسوب عباس نے کہا کہ یہ نیتن یاہو کی غلط فہمی ہے کہ ہندوستان کے 140 کروڑ عوام ان کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی حق پسند عوام کبھی کسی ظالم کا ساتھ نہیں دے سکتی، کیونکہ اس ملک کے لوگوں کے دلوں میں انسانیت بستی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس شخص پر ہزاروں معصوم بچوں، خواتین اور بے گناہ افراد کے قتلِ عام کا الزام ہو، اس کی حمایت ہندوستان کے عوام نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق بھارت کی تہذیب ہمیشہ انصاف، رحم دلی اور انسانیت کی علمبردار رہی ہے اور یہاں کے لوگ ہر قسم کے ظلم و ستم کی مخالفت کرتے ہیں۔
مولانا یعسوب عباس نے اپنے بیان میں کہا کہ "نیتن یاہو کی حمایت کرنا شیطان کی حمایت کرنے کے مترادف ہے۔ ہندوستان میں برائی کی علامت راون کا ہر سال خاتمہ کیا جاتا ہے، اس لیے یہاں کے عوام کسی بھی ظالم کا ساتھ نہیں دے سکتے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے عوام ہمیشہ مظلوموں اور محروموں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی انسانیت، امن اور انصاف کے حق میں اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
مولانا یعسوب عباس نے کہا کہ ہندوستان کی حق پسند عوام ایران اور رہبرِ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ساتھ ہے، جنہوں نے حق اور مظلوموں کے دفاع کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنی اور اپنے خاندان کی عظیم قربانیاں پیش کرکے ثابت کر دیا کہ ظلم کے خلاف جدوجہد میں شہادت تو قبول کی جا سکتی ہے، لیکن ظالم کے سامنے سر نہیں جھکایا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا نے دیکھا کہ 100 سے زائد ممالک کے سربراہان اور نمائندوں نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تشییع جنازہ میں شرکت کرکے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ کروڑوں افراد نمازِ جنازہ میں شریک ہوئے، جس سے امریکہ اور اسرائیل کی بے چینی میں اضافہ ہوا۔









آپ کا تبصرہ